سید اعجاز
ترال//سب ڈسٹرکٹ ہسپتال ترال میں عملے کی قلت اور اہم سہولیات کی عدم دستابی کے خلاف علاقے کے مختلف سیاسی لیڈان ،سمار کار کنان ،تاجروں اور عام لوگوں نے اہم مسائلے کی طرف حکام کا توجہ مبذول کرانے کی غرض سے جمعہ کے روز ہسپتال کے صحن میں جمع ہو کر زور داراحتجاج کیا ۔احتجاج میں شامل لوگوں نے بتایا سب سے پہلے سب ضلع کے 2لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی کے ساتھ طبی سہولت کے نام پر مذاق ہے ۔احتجاج میں شامل لوگوں نے بتایا ہسپتال کے گیٹ پر نصب بورڑ پر جلی حروف سے SDHلکھا ہے جبکہ نسخوں پر CHCلکھا ہوا ہے ۔انہوں نے بتایا ہسپتال اس وقت سی ایچ سی کے حساب سے عملہ تعینات ہے جن میں بیشتر شعبہ جات کے ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ نیم طبی عملے کی کرسیاں خالی پڑے ہے۔اس احتجاج میں شرکاءنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر "سب کے لیے صحت، سب کے لیے انصاف” اور "لوگوں کی زندگیوں پر سیاست نہیں” جیسے نعرے درج تھے۔جنید میر یوتھ لیڈر نے الزام عائد کیا کہ ایس ڈی ایچ کا درجہ حاصل ہونے کے باوجود ہسپتال مبینہ طور پر صرف کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (CHC) کی سطح پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا ہسپتال گزشتہ چند سال سخت بد نظمی کا شکار ہوا ہے جس کی وجہ سے اب یہ ہسپتال براہ نام ہو کر رہ گیا ہے ۔معروف ٹریڈ یونین لیڈر و سماجی کار کن فاروق ترال نے کہا ہے آج تک اس اہم مسئلے کو حکام خاص کر وزیر صحت تک پہنچانے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں تاہم کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا موجودہ سرکار میں جتنے بھی ممبران اسمبلی کو منسٹر بنایا گیا ہے انہوں نے آج تک کبھی بھی ترال کا دورہ نہیں کیا ہے بلکہ وہ صرف اپنے حلقہ انتخابات کے لئے کام کر رہے ہیں ۔ ادھر ایک اور سیاسی کار کن منظور احمد تانترے نے بتایا اگر ترال ہسپتال میں فوری طور پر عملے کی تعیناتی اور سہولت کی دستیابی کو یقینی نہ بنایا گیا تو وہ بھوک ہڑتال درج کریں گے ۔مناسب طبی سہولیات کی مبینہ عدم دستیابی کے خلاف جمعہ کی صبح ترال میں احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے ہسپتال میں طبی خدمات کو بہتر بنانے اور متعلقہ حکام سے جوابدہی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔احتجاج میںمزکورہ بالا لوگوں کے علاوہ سماجی کار کن علی محمد ریشی، بشیر احمد جان سمیت دیگر لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ہے ۔







