بارہمولہ :۹۲،اگست: : بارہمولہ کے لاپتہ انجینئر کی نعش 5روز بعد دریائے جہلم سے برآمد ہونے کے بعد سکھ برادری سے وابستہ سینکڑوں مردوزن نے احتجاجی مارچ کرتے ہوئے انجینئر گرمیت سنگھ کی پُر اسرار گمشدگی اور پھراسکی نعش برآمد ہونے کی فوری تحقیقات کامطالبہ کیا۔احتجاجی مظاہرین نے محکمہ آرینڈ بی کیخلاف نعرے بازی کی ۔جے کے این ایس کے مطابق بارہمولہ قصبہ اوراسکے نواحی علاقوںمیں اُسوقت تشویش اور رنج وغم کی لہردوڑ گئی ،جب جمعہ کے روز لاپتہ ہوئے محکمہ آراینڈ بی ڈویژن بارہمولہ کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر گرمیت سنگھ کی نعش کومنگل کے روزلور جہلم پاﺅرپروجیکٹ کے بیراج واقع گانٹہ مولہ سے برآمد کیاگیا۔بتایاجاتاہے کہ اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر گرمیت سنگھ ساکنہ رفیع آباد حال کانٹھ باغ بارہمولہ جمعہ کو بارہمولہ قصبے میں ایک سرکاری میٹنگ میں شرکت کےلئے گئے تھے، لیکن شام کو اپنے گھر واپس آنے میں ناکام رہے۔لاپتہ انجینئر کے اہل خانہ نے گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی جس کے بعد پولیس نے انجینئر کی تلاش کےلئے سرچ آپریشن شروع کردیا۔اتوار کے روز بارہمولہ پولیس نے اُس جگہ دریائے جہلم میں تلاشی کارروائی عمل میں لائی ،جہاں لاپتہ انجینئرکی نجی لاوارث گاڑی ملی تھی ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ انجینئر کی لاوارث گاڑی بارہمولہ ایکو پارک اور شیری ٹاو ¿ن کے درمیان دریائے جہلم کے کنارے سے ملی تھی۔پولیس کا کہنا تھا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ خودکشی ہے یا کچھ اور۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات سے حقیقت سامنے آئے گی۔منگل کو انجینئر گرمیت سنگھ کی نعش جہلم سے برآمد ہونے کے بعد سینکڑوںکی تعدادمیں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے مردوزن سڑکوں پر نکل آئے اورانہوںنے احتجاجی جلوس بھی نکالا ،جس میں مقامی مسلمانوںکی ایک بڑی تعدادبھی شامل تھے ۔احتجاجی مظاہرین نے محکمہ آراینڈ بی کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے انجینئر گرمیت سنگھ کی پُر اسرار گمشدگی اور پھراسکی نعش برآمد ہونے کی فوری تحقیقات کامطالبہ کیا۔اسے پہلے پولیس نے 5روز قبل لاپتہ ہوئے انجینئر گرمیت سنگھ کی نعش کاجی ایم سی اسپتال بارہمولہ میں پوسٹ مارٹم ماہرڈاکٹروں کے ذریعے کروایا۔پولیس نے کہاکہ ضروری طبی وقانونی لوازمات مکمل کرنے کے بعد انجینئر کی نعش آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے لواحقین کے سپردکی گئی ،اوراس سلسلے میں ہر زاوےے سے تحقیقات شروع کردی گئی ہے ۔
گورنمنٹ پولی ٹیکنیک کالج بمنہ سری نگرمیں سراسیم





