سید اعجاز
ترال//جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال کے مختلف علاقوں کے جنگلات سے سوکھی لکڑی کو متعلقہ محکمہ جمع کر کے قصبوں اور شہروں میں موجود مساجد کے حماموں اور وضوں کے لئے درکار پانی کو گرم کرنے کے کام آتا ہے ۔تاہم سب ضلع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایک عوامی وفد نے بتایا کہ اگر اساقدام سے محکمہ جنگلات کو آمدنی حاصل ہوتا ہے تو اچھی بات ہے لیکن جو لوگ جنگلوں کے دامن میں رہائش پزیر ہے انہیں یہ سوکھی لکڑی ( بھالن ) مساجد کے حمام کے لئے فراہم نہیں کی جاتی ہے جس کی وجہ سے جنگلات کے قریب رہائش پزیر لوگوں کو مقامی جنگلات کا بھالن فراہم نہیں کیا جاتا ہے ۔زی عزت شہریوں کی ایک وفد نے بتایا کہ یہ بہتر ہوتا اور محکمہ جنگلات کے مفاد میں ہوتا، اگر متعلقہ حکام دیہی علاقوں خصوصاً قریبی جنگلات میں رہائش لوگوں کے مساجد کے حمام کے لئے بھالن مقامی سطح پر فراہم کی جاتی ۔کچھ لوگوں نے بتایاکہ انہیں یہ بھالن فراہم ہی نہیں ہوتا جبکہ قصبے سے 10سے25کلو میٹع دور رہائش پزیر لوگوں نے بتایا کہ انہیں پہلے پہلے محکمہ جنگلات کشمیر نوٹس نامی ایک سکیم کے تحت مقامی جنگل کی سوکھی یا برف سے گری لکڑی کو اٹھانے کی اجازت دیتا تھا تاہم اب کئی سال سے ہمارے درخواست ایسے ہی پڑے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگوں کو PMAYکے تحت مکان فراہم ہوئے ہیں جو لکڑی کی عدم دستیابی کے باعث پریشان ہیں ۔انہوں نے بتایا سرکار نے ہمیں مدد کی ہمیں رہنے کے لئے گھر دیا لیکن اگر برف باری سے گری لکڑی ہمیں فراہم کی جاتی ہم سرکار کے مشکور رہتے ۔







