سری نگر /22 دسمبر2023ئپرائیویٹ سکولوں کی جانب سے داخلہ فیس کاتقاضاکرنے اور وصول کرنے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے اور خلاف ورزی کے مرتکب سکولوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میںلائی جائے گی جس میں سکول کی اَفلیشن اور ریکاگ نیشن منسوخ کرنے کے اَقدامات شامل ہوں گے۔ اِن باتوں کا اِظہار چیئر پرسن فی فکزیشن اینڈ ریگولیشن کمیٹی جسٹس سنیل حالی نے اَپنے ایک پریس بیان میں کیا ہے ۔جسٹس سنیل حالی نے کہاہے کہ اُن کے دفتر کو مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیں کہ جموں اور وادی کے چند پرائیویٹ سکول قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طلباءاور اُن کے والدین سے داخلہ کے عوض موٹی رقمیں وصول کرتے ہیں۔ اُنہوںنے کہاکہ انہیں یہ بھی شکایت ملی ہے کہ ایڈمشن فیس کی رقم نقد وصول کی جاتی ہے اور والدین کے اصرار کے باوجود انہیں رسید نہیں دی جاتی ہے ۔ اُنہوں نے جموں وکشمیر سکول ایجوکیشن ایکٹ 2002کا حوالہ دیتے ہوئے کہاہے کہ ترمیم شدہ ایکٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ پرائیویٹ سکول ٹیوشن فیس ، سالانہ فیس ، ٹرانسپورٹ فیس کے سواکوئی فیس وصول نہیں کرسکتے ہیں جبکہ پِکنک ، ٹور اور سیر وتفریح وغیرہ کی فیس رضاکارانہ طور پر لی جاسکتی ہے اور ان سب کے لئے فی فکزیشن اینڈ ریگولیشن کمیٹی سے پیشگی منظوری لینا لازمی ہے۔





