جموں/04 اگست 2025ئوزیر اعلیٰ عمر عبداللہ جو شیرِ کشمیر زرعی سائنس و ٹیکنالوجی یونیورسٹی جموں (سکاسٹ (جموں) کے پرو چانسلر بھی ہیں، نے آج بابا جیتو چٹھہ آڈیٹوریم میں یونیورسٹی کے نویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے معاشی مستقبل کو تشکیل دینے میں زرعی شعبے کے کلیدی کردار پر زور دیا۔وزیر اعلیٰ نے فارغ التحصیل سکالروں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ زراعت اور اس سے منسلک شعبے نہ صرف امکانات سے بھرپور ہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہیں۔ اُنہوں نے اعتراف کیا کہ موسمیاتی تبدیلی، وسائل کی کمی اور اُبھرتے ہوئے عالمی معیار زرعی میدان کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔اُنہوں نے زور دے کر کہا کہ زمین کے بکھرے ہوئے ذخائر، پانی کے ذخائر کی کمی اور کیمیائی کھادوں کا غیر چیک شدہ استعمال ایسے مسائل ہیں جو فوری اصلاح کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس کے لئے دیرپااور نامیاتی زرعی طریقوں کی طرف فیصلہ کن پیش رفت ضروری ہے۔ اُنہوں نے خوراکی زنجیر میں مائیکرو پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے خطرے اور موسمیاتی غیر یقینی صورتحال کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی بیداری اَب اِختیاری نہیں ہے بلکہ ضرورت بن چکی ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے فارغ التحصیل طلبا¿ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اُن پر زور دیا کہ وہ سکاسٹ کے اعلیٰ اقدار کو اپناتے ہوئے دیہی ترقی کے بڑے مشن کا حصہ بننا چاہیے۔ اُنہوں نے طلبا¿ سے کہا کہ وہ روزگار تلاش کرنے والے نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بنیں۔







