سری نگر :۷۲،ستمبر: : لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز” لوگوں سے انتہا پسندی کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کےلئے متحد ہونے کی تلقین کرتے ہوئے خبردارکیاکہ سوشل میڈیا پر مزاحمتی محاذTRF کا بیانیہ امن وامان کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے ۔منوج سنہا نے کہاکہ اگست 2019 میں آرٹیکل370 کی منسوخی کے بعدرونما ہونے والی بڑی تبدیلیاں جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہیں۔انہوںنے کہاکہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں اب پتھراو ¿، دہائیوں کے مصائب کے باوجود، نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق ٹیگورہال سری نگرمیںپہاڑی قبائلی برادری کی جانب سے ہفتہ کو منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مزاحمتی محاذ (TRF) جیسے گروپوں کی طرف سے دھکیلنے والے بیانیے کو اگر نظر انداز کیا گیا تو وہ ایک سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔منوج سنہا نے پہاڑی قبائلی برادری کے بھائیوں اور بہنوں کے ایک پرجوش اجتماع سے خطاب میں کہاکہ عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی جی کی قیادت میں جموں و کشمیر میں قبائلی برادری کی تبدیلی کے بارے میں تفصیل سے بیان کرنے کا یہ ایک شاندار موقع تھا۔انہوںنے جموں و کشمیر کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہو جائیں اور امن و استحکام کے تحفظ کےلئے شدت پسندی کے پروپیگنڈے کا فعال طور پر مقابلہ کریں۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ ان کا براہ راست تعلق ہے اور اگر ایسی داستانیںTRF کے سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں اورہم خاموش تماشائی بنے رہے ، تو یہ سنگین خطرہ ہے ۔انہوںنے لوگوں پر زوردیاکہ وہ ایسے پروپگنڈے کا فعال طور پر مقابلہ کریں۔منوج سنہاے کہا کہ دہشت گردی کےخلاف جنگ اکیلے سیکورٹی فورسز کی نہیں بلکہ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے 40 سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں، اور اسے نہ صرف فورسز بلکہ شہریوں کو بھی مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ لوگوں کو آگے آنا چاہیے ۔انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کا مکمل قلع قمع کرنا ضروری ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ دہائیوں کے مصائب کے باوجود، جموں و کشمیر ایک اہم تبدیلی کا مشاہدہ کر رہا ہے، جس میں پتھر بازی ماضی کی بات بن گئی ہے اور مقامی دہشت گردوں کی بھرتی میں کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی کسی خاندان میں تقسیم ہوتی ہے تو ہمیں اپنے گھر کو ترتیب دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔منوج سنہا نے کہا کہ اگست2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بڑی تبدیلیاں آئیں، جو جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی کہا کہ پہاڑی برادری کو شیڈولڈ ٹرائب (ایس ٹی) کا درجہ دینا، جنگلات کے حقوق کے قانون کو مضبوط کرنا، اور جنجاتیہ گورو دیواس شروع کرنے جیسے اقدامات سماجی اور معاشی انصاف کے تئیں حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اب پہاڑی برادری کو مساوی حقوق دئیے جا رہے ہیں، اس برادری کو کوئی نہیں روک سکتا، ان کا جو حق ہے وہ اس برادری کو دیا جائے گا ۔منوج سنہا نے کہا کہ پورے ملک میں بالخصوص شمال مشرق میں دہشت گردی اور بائیں بازو کی انتہا پسندی میں نمایاں کمی آئی ہے، اور انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ نکسل ازم کا جلد خاتمہ ہو جائے گا۔انہوںنے مزید کہاکہ جموں و کشمیر نے طویل عرصے سے نقصان اٹھایا ہے، اور دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ سیکورٹی ایجنسیاں اپنا کام کر رہی ہیں، اور ہمیں بطور شہری ذمہ داری سے برتاو ¿ کرنا چاہیے اور کسی بھی غلط سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہونا چاہیے-
برف باری سے سرحدپار دراندازی کی کوششوں میں تیزی آنے کااندیشہ:آئی جی بی ایس ایف
نومبر تک امکانات،سیکورٹی فورسز ناکام بنانے کےلئے تیار
امسال ابتک دراندازی کی2کوششیں ناکام ،LOCپر فوج اور بی ایس ایف کا غلبہ :اشوک یادﺅ
سری نگر :۷۲،ستمبر:جے کے این ایس : سرحدی حفاظتی فورس کے سینئر آفیسرنے موسم سرمامیںسرحدپار دراندازی کی کوششوں میں تیزی آنے کااندیشہ ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیاہے کہ دہشت گرد لائن آف کنٹرول کے پار لانچ پیڈ پر دراندازی کےلئے انتظار کر رہے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق بی ایس ایف کشمیر فرنٹیئر کے انسپکٹر جنر ل نے ہفتہ کو کہا کہ دہشت گرد وادی کشمیر میں دراندازی کے لئے لائن آف کنٹرول کے پار لانچ پیڈ پر انتظار کر رہے ہیں، لیکن سیکورٹی فورسز چوکس اور ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کےلئے تیار ہیں۔آئی جی بی ایس ایف کشمیر فرنٹیئر اشوک یادو نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں دہشت گردوں کی دراندازی کی بڑھتی ہوئی کوششیں ہمیشہ سردیوں کے آغاز سے پہلے ہی رہتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ برفباری سے پہلے سرحدپارسے ہمیشہ دراندازی کی کوششیں ہوتی رہتی ہیں۔آئی جی بی ایس ایف نے کہاکہ ابھی بھی تقریباً 2مہینے ہیں، اور نومبر تک دراندازی کے امکانات ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگلے 6ماہ تک ان کے کم امکانات ہوں گے۔ اس لیے، وہ ہمیشہ دراندازی کی کوشش کرتے ہیں، لیکن فورسز کی چوکسی کی وجہ سے دراندازی کرنا بہت مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد لائن آف کنٹرول کے اس پار لانچ پیڈ پر وادی میں دراندازی کے موقع کا انتظار کر رہے ہیں۔سرحدی حفاظتی فورس کے سینئر آفیسرنے کہاکہ بانڈی پورہ اور کپواڑہ سیکٹر میں ہمارےAOR (ذمہ داری کا علاقہ) کے سامنے لائن آف کنٹرول کے اس پار لانچ پیڈ پر دہشت گردوں کی موجودگی ہے۔ وہ دراندازی کے موقع کا انتظار کر رہے ہیں لیکن سیکورٹی بہت سخت ہے۔آئی جی بی ایس ایف اشوک یادﺅ نے کہاکہ بعض اوقات وہ حرکت کرنے کےلئے خراب موسم کا انتظار کرتے ہیں، لہذا، کوششیں ہمیشہ موجود ہیں، لیکن ہم کسی بھی صورت حال کے لیے تیار اور چوکس ہیں۔اشوک یادو نے کہا کہ فوج اور بی ایس ایف چوکس ہیں اور ہائی ٹیک نگرانی کے آلات کی مدد سے ایل او سی پر بہت اچھی طرح سے غلبہ حاصل کر رہے ہیں۔آئی جی بی ایس ایف نے مزید کہاکہ فوج کے ساتھ ساتھ، ہم لائن آف کنٹرول پر بہت اچھی طرح سے غلبہ حاصل کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سیکورٹی فورسز نے اس سال اب تک دراندازی کی2کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔ ہمارے اے او آر میں دراندازی کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ ہم اپنے فرائض کو انجام دیتے ہیں اور ہمارے پاس موجود نئے طریقہ کار اور نگرانی کے نئے آلات ہیں۔






