- سید اعجاز
ترال//سب ضلع ترال کے آری پل اور ترال بلاکوں میں مال مویشوں کی تعداداس وقت28ہزار سے زیادہ ہے تاہم ان بھیڑ بکریوں کے علاج معالجہ اور دیگر لوازمات کو پورا کرنے کی غرض سے2ڈاکٹروں سمیت عملے کے کل12افراد شامل ہے جبکہ عملے کے کچھ لوگوں کو بی ایل او کی اضافی ڈیوٹی بھی تفویض کی گئی ہے ۔ جمعہ کے شمارے میں ترال کے ناگہ بل علاقے سمیت کئی بستیوں میں بھیڑ بکریوںکے پیروںکی بیماری(لونگ ) کے حوالے سے ایک خبر شائع کی تھی ۔اس دوران محکمہ کے ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ ترال کے کچھ علاقوں میں یہ بیماری پھوٹ پڑی ہے انہوں نے تاہم کہا کہ28ہزار بھیڑ بکریاں علاقے میں لوگ پالتے ہیں جس میں متعدد شیپ یونٹس بھی شامل ہیں ۔انہوں نے بتایا علاج معالجہ کے لئے دو بلاکوں آری پل اور ترال میں عملے کے کل12ملازمین یہاں تعینات ہیں جو ایک علاقے سے آتے ہیں دوسرے علاقے میں جاتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ملازمین پر پہلے ہی کام کا دباو ہے ۔انہوں نے بتایا اس دوران کچھ ملازمین کو بی ایل او کی ڈیوٹی اپنے فرائض کے ساتھ ساتھ انجام دینے پڑتے ہیں ۔ اس طرح سے قصبے میں بھیڑ بکریوں کے علاج معالجہ کے عملے کی قلت ہے کسانوں نے بتایا کہ ایک طرف انہیں خود روز گار کمانے کے لئے کہا جاتا ہے وہی دوسری جانب علاج معالجہ کے حوالے سے عوام کو پریشانیوں کا سامنا ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مختلف اسکیموں کے تحت لوگوں کو خود روز گار کمانے کی غرض سے محکمے نے بھی متعدد یونٹس سبسیڈی پر لوگوں کو فراہم کئے گئے ہیں ۔تاہم علاقے میں لون بیماری نے لوگوں کو پریشان کر کے رکھا ہے ۔






