شوپیان :۳۲، جولائی: : جنوبی کشمیرکے ضلع شوپیان میں تقریباً6سال بعد بازار اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ ٹریفک کی آمدورفت جزوی طور پر متاثررہی ۔جے کے این ایس کے مطابق شوپیاں میں بدھ کو مکمل بند دیکھا گیا، جو کہ اگست2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پہلا موقعہ ہے،جب یہاں شٹر ڈاﺅن ہڑتال رہی کیونکہ رہائشیوں نے ڈپٹی چیف ایجوکیشن آفیسر (DCEO) کے دفتر کو ضلع کے منی سیکریٹریٹ سے ممبراسمبلی زینہ پورہ شوکت حسین گنائی کے آبائی گاﺅں چترگام منتقل کرنے کےخلاف احتجاج کیا۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ ضلع بھر میں دکانیں اور کاروبار بند رہے جس سے کاروباری سرگرمیوں کیساتھ ساتھ ٹریفک کی آمدورفت جزوی طور پر متاثر ہوئی۔ آل پارٹی کونسل کی قیادت میں شٹ ڈاو ¿ن کی کال کو متعدد سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی گروپس اور تجارتی انجمنوں کی حمایت حاصل تھی۔مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ مذکورہ دفترکی سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کی گئی اور شوپیاں کے رہائشیوں کےساتھ جان بوجھ کر ناانصافی کی گئی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حکم نامے کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور ڈی سی ای اﺅ آفس کو اس کی اصل جگہ پر بحال کیا جائے۔یہ احتجاج شوپیاں میں2019 کے بعد پہلا بڑا بند ہے، جو شوپیان ضلع میں سیاسی خطوط پر بڑھتے ہوئے عوامی غصے اور اتحاد کی عکاسی کرتا ہے





