سری نگر/ لیفٹیننٹ گورنر منو ج سِنہانے آج بارہمولہ میں سیو یوتھ سیو فیوچر فاو¿نڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ بین المذاہب ہم آہنگی مکالمے سے خطاب کیا۔ اُنہوں نے سیو یوتھ فیوچر فاﺅنڈیشن کی منشیات سے پاک جموںوکشمیر مہم میں خدمات کوسراہتے ہوئے کہا کہ نوجوان رضاکاروں نے بے لوث جذبے کے ساتھ کام کیا اوریو ٹی کے روشن مستقبل کے لئے ایک بڑی ذمہ داری نبھائی۔اُنہوں نے کہا،”اس مہم کے ذریعے ہم نے کنبوں اور اِداروں میں اعتماد کو مزید مضبوط کیاہے ، نوجوانوں کے ان کے مستقبل پر اعتماد کو تقویت دِی ہے اور پورے ملک کو یہ پیغام دیا ہے کہ جب کوئی معاشرہ خود اَپنے بل بوتے پر اُٹھ کھڑا ہوتا ہے تووہ بڑے سے بڑے چیلنج پر بھی قابو پا سکتا ہے۔“لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کی سرزمین ہمیشہ سے ہم آہنگی، بھائی چارے اور باہمی احترام کی علامت رہی ہے۔اُنہوں نے کہا،”نسلوں سے یہاں مختلف مذاہب کے لوگوں کو عزت ملی اور روحانی سکون حاصل ہوا۔ یہ ا±ن اولیا¿، صوفیوں اور ریشیوں کی دیرپامیراث ہے جنہوں نے صدیوں تک محبت، ہمدردی اور اتحاد کا درس دیا۔“
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ لل دید کی تعلیمات کسیایک مذہب سے وابستہ نہیں تھیں۔ ان کے ’واکھ‘ براہِ راست اِنسانی دل سے مخاطب ہوتے تھے۔ اُنہوں نے کبھی لوگوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نہیں پرکھا بلکہ مختلف طریقہ ہائے عبادت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اِسی طرح شیخ العالمؒ نے یہ سبق دیا کہ حقیقی عبادت اِختلاف اور تقسیم میں نہیں بلکہ رحم دلی اور ہر ِاِنسان کی خدمت میں مضمر ہے۔
اُنہوں نے کہا،”کشمیر کی فروغ پذیر ریشی صوفی روایت کسی ایک مذہب کی برتری کا اعلان نہیں کرتی بلکہ اس کا پیغام یہ ہے کہ تمام مذاہب اور عقائد ایک ہی حقیقت سے اپنی قوت حاصل کرتے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ یہی تعلیم ہماری مشترکہ تہذیبی میراث ہے۔ یہ ورثہ صرف ہندوو¿ں، مسلمانوں، سکھوں، بدھوں یا عیسائیوں کا نہیں بلکہ اس مقدس سرزمین پر پیدا ہونے والے ہر شہری کا مشترکہ سرمایہ ہے اور اس کی حفاظت ہماری اخلاقی اور روحانی ذِمہ داری ہے۔ ہمیں اس ہم آہنگی کی اِسی طرح حفاظت کرنی چاہیے جیسے ہم اَپنے کنبوں کی حفاظت کرتے ہیں۔“
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سماجی اور مذہبی ہم آہنگی ایک مضبوط معاشرے، مضبوط جموں و کشمیر اور ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد ہے۔
اُنہوں نے کہا،”جب لوگ پُر امن بقائے باہمی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں تو معاشرے کی توانائی ترقی کی سب سے بڑی قوت بن جاتی ہے۔ اِسی لئے میرا پختہ یقین ہے کہ ہم آہنگی نہ صرف اخلاقی ضرورت ہے بلکہ معاشی خوشحالی کی بنیاد اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔“






